اے رب جہاں پنجتن پاک کا صدقہ
اس قوم کادامن غم ءشبیر سے بھر دے
بچوں کو عطا کر علی اصغر کا تبسم
بوڑھوں کو حبیب ابن مظاھر کی نظر دے
کمسن کو ملے ولولہ ء عون و محمد
ہر ایک جواں کو علی اکبر کا جگر دے
ماوں کو سکھا ثانی ءزہرا کا سلیقہ
بہنوں کو سکینہ کی دعاوں کا اثر دے
مولا تجھے زینب کی اسیری کی قسم بے
جرم اسیروں کو رہائی کی خبر دے
جو چادر ء زینب کی عزادار ہیں مولا
محفوظ رہیں ایسی خواتین کے پردے
جو دین کے کام آئے وہ اولاد عطا کر
جو مجلس شبیر کی خاطر ہو وہ گھر دے
مفلس پہ زر و لعل و جواہر کی ہو بارش
مقروض کا ہر قرض ادا غیب سے کردے
غم کوئی نہ دے ہم کو سوائے غم ء شبیر
شبیر کا غم بانٹ رہا ہے تو ادھر دے